اداریــــــــہ
مضراب
ہمارا معاشرہ آج جس روحانی اذیت اور کرب سے دوچار ہے، اس سے نجات دلانے میں حقیقی اور زندہ و پائندہ ادب مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔کیونکہ سماجی حالات سے نمو پانے کے بعد ادب اپنی آفاقیت اور اپنی تاثیریت کے باعث زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہونے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔لیکن جب سے ادب ایک منڈی میں تبدیل ہو گیا ہے تب سے ادب اور ثقافت اپنی معنویت کھوتی جارہی ہے۔ بلکہ یہ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو کہ سامراج وادی طاقتوں نے جب سے پورے عالم پر اپنی گرفت مضبوط کی ہے، تب سے ہی ہمارے معاشرے اور ادب میں صارفیت (کنزیومر ازم) کا غلبہ ہو چکا تھا مگر اب یہ فتنہ اپنی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ سرمایہ مافیاؤں نے دنیا بھر کے عوام کے اذہان کو بھی میڈیا ، تعلیم اور سیاسی جبر سے مکمل طور پر اپنے قبضہ میں لے رکھا ہے۔ لباس سے خوراک تک، نظریات سےمذاہب تک، حتیٰ کہ جمہوری اور ترقی پسند کلچر، سب کچھ عالمی سرمایہ مافیہ کےکنٹرول میں ہے۔ اس سلسلے میں سامراجی طاقتوں نے جو پہلا کام کیا ہے، وہ سوشلزم اور کمیونزم کے خلاف ہمارے سماج اور معاشرے میں ایک بیانیہ تیار کیا جسے ہتھیار بنا کر عالمی سطح پر نہ صرف یہ کہ انسانی شعور کو یرغمال بنایا بلکہ شعراء و ادباء کے افکار و اذہان کا اغوا بھی کر لیا۔ یہی سبب ہے کہ عصر حاضر میں جہاں بیشتر افراد کمیونزم اور سوشلزم کو بے وقت کی شہنائی قرار دیتے ہیں، وہیں شعراء و ادباء کا ایک بڑا حلقہ بھی کمیونزم اور سوشلزم کو ادب و فن مخالف فکر یا نظریہ گردانتا ہے۔ اس پر ستم یہ کہ ہمارے کچھ فنکار یہ کہتے ہوئے بھی نہیں تھکتے کہ کمیونزم اور سوشلزم کے علم بردار انتہائی روکھے، خشک اور مذہب بیزار ہوتے ہیں جو کثیف سماجی مسائل، معیشت اور سیاست میں ہی دلچسپی رکھتے ہیں۔ لہٰذا شاعری اور دیگر فنون لطیفہ سے منسلک لوگوں کے لئے ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔اس طرح کی سوچ ہمارے شعراء و ادباء کے یہاں غالب ہونے کی بنیادی وجوہات وہ غلط تصورات رہے ہیں جو کچھ متعصب ادیبوں، شاعروں اور ناقدوں کے ذریعے ایک نسل سے دوسری نسل تک کل بھی منتقل ہوئے آج بھی ہو رہے ہیں۔ اس حوالے سے پہلی غلط فہمی جو پھیلائی گئی کہ ادب اور سیاست دو بالکل مختلف اور متضاد سماجی مظاہر ہیں اور دوسری یہ کہ کمیونزم اور سوشلزم فرد کی آزادی کے قائل نہیں اور جہاں جہاں یہ نظام فکر اقتدار کا حصہ رہے ہیں، وہاں وہاں فرد کی آزادی جاں بلب ہے۔ حالانکہ یہ سب سراسر غلط، بے بنیاد اور لایعنی باتیں ہیں۔
کہتے ہیں کہ ادب اور فن ایک انفرادی معاملہ ہے جس کا تعلق فن کار کے جذبات اور محسوسات سے ہوتا ہے جو ضرورتِ ابلاغ کے تحت مخصوص جمالیاتی شکل و صورت اختیار کرتا ہے۔ فنکار کے فکری عمل کا یہ نتیجہ اسی میکانکی طرز فکر کی پیداوار ہے جو سچ پوچھیں تو ہمارے سماج اور معاشرے کے روزمرہ کا معمول ہے۔گویا یہ معروض اور موضوع کے باہمی جدلیاتی تعلق کی ایک مربوط اور مضبوط کڑی ہے۔اگر ہم تعصب کی عینک اتار کر دیکھنے کی کوشش کریں تو یہ حقیقت آشکار ہوگی کہ ہمارے محسوسات اور ہماری فکر کا باہمی رشتہ ناقابل انقطاع ہے۔ دل، دماغ کی مشاورت سے ہی خوش یا اداس ہوتا ہے، اور دماغ جذبات کے دائرۂ اثر سے کبھی نہیں نکل سکتا۔ مارکسزم بھی وہ نظریہ ہے جسے سمجھنے کے لئے دماغ کو دل کی براہِ راست معاونت درکار ہوتی ہے۔
بہر حال، آج شاعر کی سماجی حیثیت کا موازنہ اگر صدیوں قبل کی سماجی حیثیت سے کیا جائے تو زمین اور آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ 19ویں صدی تک شاعر کا سماجی مقام بہت بلند تھا۔ اس عہد کے ذہنی افکار و اظہار کو حقیقی سرمایہ اور سماجی پیداوار کا لازمی اور افضل ترین حصہ گردانا جاتا تھا۔ لیکن آج سرمایہ دارانہ نظام نے ہر شے کی طرح ذہنی پیداوار کو بھی اجناس سازی (commodification) میں تبدیل کر دیا ہے اور یوں شعراء و ادباء کو اپنی بقا کے لئے ایسا ادب پیدا کرنا پڑ رہا ہے جو دیگر اجناس کی طرح خریدا اور بیچا جا سکے۔تاہم تمام قنوطی تجزیوں اور صارفی شور و غل کے باوجود ادب اور ادیب مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ کسی نہ کسی شکل میں اپنے بنیادی جوہر کو بچا کر تاریخ کے اس اہم مقام تک پہونچنے میں کامیاب و کامران نظر آتے ہیں۔ اسکے باوجود یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ادبی افق پر ایسے بہت سے ’نام نہاد ستارے‘ جگ مگ کررہے ہیں جن کو حقیقی معنوں میں فن کار نہیں کہا جا سکتا، جن کی مصنوعی جگمگاہٹ کی چکا چوند روشنی میں سچے اور اچھے ادب کی مزاحمت پژ مردہ نہیں بلکہ اپنی سابقہ روایات کی طرح آج بھی باقی ہے۔ایسے میں ہمارے کچھ قنوطی قسم کے دانشور عصر حاضر کے حاوی رجحانات کو دیکھ کر ادب کے تاریک مستقبل کا مژدہ سنا رہے ہیں۔ یہ دانشوران صرف نابغوں کی موجودگی یا عدم موجودگی کی بنیاد پر ہی سارے ادبی منظر نامے کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں جو کہ ایک میکانکی طریقہ ہے۔ان کی نگاہ ملامت صرف شاعری اور مشاعرے پر مرکوز نظر آتی ہے۔مشاعرہ جو برصغیر ہند و پاک کی ثقافتی روایات کا ایک اہم جزو رہا ہے۔جس نے آج باقاعدہ ایک صنعت کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ اس ضمن میں تقریب سازی (event management) ایک باقاعدہ پیشہ بن چکی ہے اور سرمایہ داروں کی اس شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری نے بھی شاعروں میں اس صنعت کے کل پرزے بننے کی دوڑ تیز تر کر دی ہے۔ مقبول شعراء جن کا ’ڈیمانڈ‘ زیادہ ہے، ان کے نرخ بھی آج سرمایہ دارانہ منڈی کے اصولوں کے تحت مسلسل بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔جس پر ہمارے قنوطی دانشور چیختے، چلاتے اور یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ’’وہ دیکھو ادب کا جنازہ نکل رہا ہے، وہ دیکھو زبان عالم نزع میں ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ کچھ شاعر جو اس مسابقت کی اہلیت نہیں رکھتے، وہ بھی ان قنوطی دانشوروں کے ہمنوا بن جاتے ہیں۔ کہنے دیجئے کہ زیادہ ’شور‘ مچا کر دراصل وہ لوگ اس صنعت کے منتظمین کی توجہ کے طلبگار ہوتے ہیںاور جیسے ہی منتظمین کی طرف سے انہیں کسی مشاعرے کا دعوت نامہ مل جاتا ہے تو وہ سر کے بل دوڑتے ہوئے حاضر بھی ہو جاتے ہیں۔گویا آج کل مشاعروں کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے ادبی فتوے جاری کرنا ایک روایت بن چکی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نوجوان نسل کو وہی گھسا پٹا وعظ سنانے میں لگے رہتے ہیں کہ یہ سب بکواس ہے، اس سے ادب کا بھلا ہونے سے رہا لہٰذا مشاعروں سے بچو اور گوشہ نشینی میں ’حقیقی‘ ادب تخلیق کرتے رہو۔ یہاں یہ بحث اہم نہیں کہ مشاعرہ ہونا چاہئے یا نہیں، مشاعرہ پڑھنا چاہیے یا نہیں،بلکہ اہم یہ ہے کہ آپ کیا تخلیق کر رہے ہیں اور آپ کے پاس کہنے، لکھنے اور سنانے کو کچھ ہے بھی یا نہیں۔اگر آپ کے پاس سماجی و معاشرتی افادیت کے حامل افکار تازہ ہیں تو انہیں مشاعروں سمیت ہر ممکنہ پلیٹ فارم کے ذریعے عوام تک پہنچانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اب یہ الگ بات کہ کچھ شعراء بڑے نازک، خاموش طبع اور سنجیدہ مزاج کے ہوتے ہیں جو واقعی مشاعرے وغیرہ سے بیزاری اور اکتاہٹ محسوس کرتے ہیں،ان کی عزت اور احترام اپنی جگہ لیکن مشاعرے کی روایت اپنی تمام تر سرمایہ دارانہ روش کے باوجود بالعموم ایک صحت مند روایت ہے جس میں سیکڑوں اور بعض اوقات ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ، بالخصوص شرفاء نوجوانوں اور طلبا و طالبات کا ایک جگہ جمع ہونا عہدِ حاضر میں بذاتِ خود ایک راست اور مثبت پیش رفت ہے۔ آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ لوگ ادب تو دور، کسی بھی مقصد سے جمع ہو جائیں اور اپنے دکھ درد بانٹنا شروع کر دیں۔ کہنے کی اجازت ہو تو عرض کریں کہ مشاعرے کے اس پراسیس میں ایک دن خود ہی تعین معیار کے ذریعے غیر معیاری شاعری مسترد ہونا شروع ہو جائے گی۔ اس لیے سنجیدہ لکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ پاپولر شعراء سے حسد اور مسابقت کی سوچ کی بجائے اپنے معیار کے فکری اثاثے کے ساتھ مشاعروں میں شرکت کریں کیونکہ ان کی فکری کاوشیں لاشعوری طور پر از خود معیاری شعر و ادب پیش کرنے کی راہیں ہموار کر دیں گی جس کے فطری دباو ٔمیں پاپولر شعراء زیادہ دنوں تک خود کو بچا نہیں پائیں گے اور لامحالہ یا تو وہ حقیقی اور معیاری ادب تخلیق کرنے پر مجبور ہوجائیں گے یا پھر تاریخ ادب میں محض ’مسخروں‘ کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ ایسا نہیں کہ ان تمام پاپولر شعراء میں حقیقی ادب کی تخلیقی استعداد نہیں ہے بلکہ وہ مشاعرہ انڈسٹری کے زیرِ اثر جو کچھ تخلیق کر رہے ہیں، اسے ہی عوامی ادب اس لیے سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی شہرت، مانگ اور آمدنی میں اضافے کا باعث ہے لیکن وہ مشاعروں میں صرف وہی پیش کرتے ہیں جو فوری طلب اور جذباتی ہوتے ہیں۔ حالانکہ ان میں بعض میرے احباب بھی ہیں،جنہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مشاعرہ بازی بھلے ہی ان کا پیشہ کیوں نہ ہو، شعر و ادب کے معیار کی حفاظت اور اسکے وقار کی پاسداری محض ان کا فریضہ ہی نہیں بلکہ یہ ایک تاریخی ذمہ داری بھی ہے۔ علاوہ ازیں منتظمین کے ذریعہ شعر و ادب کی اس سرمایہ دارانہ منڈی میں رسد کو کنٹرول کرکے مانگ کی از سرِ نو تعیین بھی کی جا سکتی ہے۔ ان پر یہ واجب ہے کہ وہ ایسے جینوئن شعراء جو خود کے لیے یا حلقۂ احباب کے لیے لکھتے ہیں، انہیں بھی متعارف کرواتے رہا کریں تاکہ وہ اجتماعی معیاری ذوق کی افزودگی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اس سے بھلے ہی وقتی طور پر ان کی ’آمدنی اور واہ واہی‘ کم ہونے کا اندیشہ ہی کیوں نہ ہو۔ بہ قول کارل مارکس:
’’قلم کار کو زندہ رہنے اور لکھنے کے لیے تو کمانا چاہیے لیکن کمانے کے لیے زندہ رہنا اور لکھنا نہیں چاہیے۔ اگر کوئی تخلیقی فنکار ایسا کرتا ہے تو یہ تاریخی جرم ہے جو خود اپنی تخلیقیت پر اور ادب کی روح پر حملہ آور ہونے کے مترادف ہے۔‘‘
ویسے بھی ہر عہد اور ہر زمانے میں دنیا کے بڑے اور معروف نظریہ ساز اور عوام دوست دانش سامراجی مفادات کے تابع نہیں رہے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ آج سامراج واد ایک منظم سازش کے تحت ہمارے مڈل کلاس قلم کاروں کو انسانی حقوق، آزادی اظہار، لبرلزم، جدت پسندی، وطن پرستی، ماحول دوستی اور سچ کی علمبر داری کے تاج پہنا کر نہ صرف ان کی مدح سرائی کررہا ہے بلکہ ان کی مقبولیت اور ذہنی تسکین کے اسباب پیدا کرکے بڑی سرعت سے پچھلی صدی کے طبقاتی شعور اور طاقتور مزاحمت کے کردار کو مندمل بھی کر رہا ہے۔ وگرنہ کیا سبب ہے کہ قلم قبیلے کے سپاہی جو کبھی اپنے انقلابی شعور اور مہم جوئی کے رحجان کی بنیاد پر انسان دوست تحریکوں کی عملی راہنمائی کا فریضہ ادا کرنے کا درخشاں ماضی رکھتے ہیں، وہ آج کل اک رومان پرور موم بتیاں جلانے، مقام ظلم پر پھول رکھنے،اجتماعی نعرے بازی اور سڑکوں پر خاموش پر امن کتبے اٹھائے کھڑے ہونے کے بے ضرر۔مفاہمتی احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔گویا بیک وقت ظلم و استحصال بھی جاری ہے اور احتجاج بھی۔قلم برادری کا یہ فکری دیوالیہ پن کیا عالمی طبقاتی شعور اور ذہانت کے لیے لمحۂ فکریہ نہیں....؟
(اعزازی مدیر)