اداریــــــــہ

مضراب

ہمارا معاشرہ آج جس روحانی اذیت اور کرب سے دوچار ہے، اس سے نجات دلانے میں حقیقی اور زندہ و پائندہ ادب مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔کیونکہ سماجی حالات سے نموملک اور قوم کی تعمیرو تخریب میں صحافت کے مرکزی کردار سے ہر کوئی بخوبی واقف ہے۔ صحافت ہر عہد میں ہمارے سماج اور معاشرے کی بااثر اور متاثر کن آواز بن کر گونجتی رہی ہے۔ یہ صحافت ہی ہے جو قوموں کی سماجی، سیاسی، معاشرتی، تہذیبی، ثقافتی اور اقتصادی زندگی میں ایک طاقتور ہتھیار بن کر کبھی منفی تو کبھی مثبت اثرات مرتب کرتی رہی ہے۔ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتیں، سماجی ریفارمر، روحانی پیشوا، سیاسی رہنما اور مشاہیر ادب نے اس کی پُرزور اور پُراثر آواز کے آگے ہمیشہ اپنے سروں کو خم کیا ہے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ صحافت کی تنقید اور تجاویز کا خیر مقدم کرنے میں ارباب حکومت کو بھی مجبور ہونا پڑتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ صحافت کو ملک کی تیسری آنکھ اور جمہوریت کا چوتھا ستون بھی کہا جاتا ہے۔ جمہوری نظامِ حکومت میں سرکار کے تمام اہم اداروں کی بقاء اور سلامتی کے لئے صحافت کا وجود ناگزیر ہے۔صحافت کو سماجی خدمت کے نام سے بھی منسوب کیا جاتا ہے کیونکہ سماج کی اچھائیاں اور بُرائیاں صحافت کے ذریعے ہی سامنے آتی ہیں۔ عوام میں سماجی اور سیاسی شعور بیدار کرنا، صحت مند ذہن اور نیک رجحانات کو پروان چڑھانا، صالح معاشرے کی تشکیل کرنا،حریت اور آزادی کے جذبے کو فروغ دینا، جذبۂ ہمدردی، رواداری، الفت و محبت کے چراغ روشن کرنا نیز عوامی مشکلات و مسائل کی آئینہ داری کرنا ارباب صحافت کے بنیادی فرائض کا حصہ ہیں۔ تاریخ کے اوراق اس امر کے شاہد ہیں کہ بنگال سمیت ملک کے اَن گنت نامور صحافیوں نے آزادیٔ صحافت کے پرچم کو سر بلند کرنے کے پیش نظر نہ صرف یہ کہ اپنے قلم سے جہاد کیا بلکہ اپنی عمر عزیز کے بیش قیمت ایام پسِ دیوارِ زنداں بھی گزارے۔ یہ وہ صحافی تھے جنہوں نے اپنے زورِ قلم سے ملک و قوم اور مذہب و ملت کی برہنہ سچائیوں کی تصویر کشی کرکے معاشرتی و سماجی ناہمواری، ملّی و مذہبی بے راہ روی،حکومتوں کی ناانصافی، ظلم و جبر اور فتنہ و فساد کے خلاف اپنی علمی و قلمی صلاحیتوں کا استعمال کرکے ہماری قوم کا عظیم سرمایہ قرار پائے۔ 

کہتے ہیں کہ انسانی سماج اور معاشرے میں تغیر ایک فطری اور ناگزیر عمل ہے۔آج کے سائنسی اور تکنیکی دور میں آمد و رفت کے ذرائع اورخبر و نظر کے وسائل نے پوری دنیا کو ایک دوسرے کے اس قدر قریب کر دیا ہے کہ دنیا سمٹ کر رہ گئی ہے۔ دور دراز ملکوں، ریاستوں اور شہروں میں پیش آنے والا واقعہ یا حادثہ یوں لگتا ہے کہ جیسے اپنے ہی جسم و جان پر بیت گیا ہو۔ ہمارے دل و دماغ اور فکر و نظر کو قریب تر لانے میں پرنٹ اور برقی میڈیا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔سائنسی ترقی کے اس دور میں آج ملک کا برقی نظام اتنا تیز تر ہوگیا ہے کہ اب بظاہر کسی پریس میڈیا کی ضرورت نظر نہیں آتی، اس کے باوجود پریس میڈیا کی حیثیت اپنی جگہ مسلّم ہے۔دیگر لفظوں میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کل کے مقابلے آج بھی اخبارات اور رسائل کی اہمیت اور ضرورت کسی طور کم نہیں ہوئی بلکہ روز بروز بڑھتی ہی جا رہی ہے کیونکہ اخبارات و رسائل جہاں دینی، ادبی، شعری اور فنی شوق کی تسکین کرتے ہیں وہاں یہ سنجیدگی کے ساتھ عوام کی ذہنی، فکری اور سیاسی تربیت بھی کرتے ہیں۔گویا یہ عوام میں آگہی کا ایک معتبر ذریعہ ہے جس کی اہمیت اور افادیت کو تمام تر سہولیات کے باوجود کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ویسے بھی ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اخبارات اور رسائل نہ صرف یہ کہ اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ یہ مذہبی و لسانی تعصب سے پاک معاشرے کی تشکیل میں قوموں کے افکار و اذہان کو غور و فکر کی تحریک بھی دیتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اخبار و جرائد سیاسی، سماجی، معاشی، تعلیمی، مذہبی اور قومی بیداری لانے میں اہم رول بھی ادا کرتے ہیں۔صحافت کے اس تاریخی کردار میں اردو صحافت کی خدمات کا ذکر سنہرے الفاظ میں ہوتا رہا ہے۔ لیکن آج ملک گیر سطح پر صورت حال یکسر مختلف ہے۔بنگال بھی اس سے مستثنیٰ نہیں، بلکہ سچ پوچھیں تو یہاں کی حالت بالکل غیر ہے- حالانکہ تاریخ کے اوراق یہ بتاتے ہیں کہ روز اوّل سے بنگال کا اردو پریس بہت شاندار، باوقار اور جاندار رہا ہے لیکن عصری منظر نامے میں ایسا لگتا ہے کہ اردو صحافت کو اپنے قاری کے لئے اب نیا کرنے یا پیش کرنے کے لئے کچھ بچا ہی نہیں۔اس مقام پر یہ ذکر ازحد افسوس ناک اور انتہائی مایوس کن ہے کہ ارض بنگالہ میں اردو دوسری سرکاری زبان ہونے کے باوجود یہاں کی اردو صحافت میں ترقی و تغیر کے آثار ہمیں دُور دُور تک نظر نہیں آرہے ہیں۔ آج یہاں اردو پریس کی روبہ زوال صورت حال دیکھ کر کوئی یقین نہیں کرے گا کہ بنگال میں اردو صحافت کا ماضی کبھی تابناک بھی تھا۔ اپنی سنہری تاریخ رکھنے والے اردو پریس سے کیا غلطی سرزد ہوئی کہ اس کے قارئین کی تعداد روز بروز کم ہوتی جارہی ہے اور اس کا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔؟ آزادی سے پہلے کے دور پر ایک نظر ڈالنے سے بنگال میں اردو پریس کے شاندار ماضی کی کچھ پرانی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔ اردو صحافت کا پتہ  ’جام جہاں نما‘ سے لگایا جا سکتا ہے۔ اردو کا یہ ہفت روزہ 27 مارچ 1822 کو منشی سدا سکھ مرزا پوری کی ادارت میں جاری ہوا۔

 دفتری زبان کے طور پر فارسی کے زوال کے بعد اردو کو اہمیت حاصل ہوئی اور اردو رسائل و جرائد کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔ برطانوی راج نے ایک طرف اسے عوام سے  رابطے کے طور پر استعمال کیا تو دوسری طرف آزادی پسند متوالوں نے اسے قوم پرستی کے جذبات پیدا کرنے کا ایک بنیادی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ 1857 کی بغاوت میں ملوث ہونے کی وجہ سے انگریزوں نے اردو پریس پر پابندی لگا دی تھی۔ اردو گائیڈ 1858 میں کولکاتہ سے شائع ہونے والا پہلا اردو روزنامہ تھا۔بہ قول شانتی رنجن بھٹاچاریہ: 

’’اردو پریس نے 19ویں صدی میں زور پکڑا اور 20ویں صدی میں کسی بھی مقامی پریس سے زیادہ مقبول ہوا۔ ’الہلال‘ اور’ البلاغ‘ جیسے اخبارات نے اردو پریس کے لئے نئے راستے کھولے۔تاہم  بنگلہ دیش کے قیام کے بعد 1971 میں اردو پریس کو ایک بڑا دھچکا لگا اور اس نے اپنا جوش و جذبہ اور اپنا وقار و اعتبار کھو دیا جو اس کی پہچان ہوا کرتے تھے۔‘‘

بہرحال، ہمعصر صحافت (Contemporary Journalism) کے گرتے معیار اور بڑھتے مسائل پر گفتگو دراز کرنے سے قبل یہ عرض کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ موجودہ دور میں اردو صحافت کو کئی اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔ بالخصوص بنگال میں یہ ساختی، اقتصادی اور شناختی بحرانوں کے امتزاج سے دوچار ہے۔ اگرچہ یہ اردو قبیلے کے لیے ایک اہم لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے لیکن آبادی کی تبدیلی اور تکنیکی پسماندگی کی وجہ سے اس کا اثر و رسوخ کم سا ہوکر رہ گیا ہے۔ 

1۔ معاشی اور مالی مشکلات :

بنگلہ،انگریزی یا ہندی میڈیا کے برعکس، اردو پریس کو کارپوریٹ مشتہرین کو راغب کرنے کے لیے بڑی جدوجہد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زیادہ تر نجی کمپنیاں اردو اخبارات کو نظرانداز کر دیتی ہیں، جن سے اس کی پیدواری لاگت دیگر زبانوں کے مقابلے بڑھ جاتی ہے اور یہ مکمل طور پر سرکاری اشتہارات پر انحصار کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

وسائل کی کمی یعنی کم سرمائے کے سبب اردو میڈیا مسابقتی تنخواہ بھی نہیں دے پاتا، جس کی وجہ سے ہنر مند صحافی اور ڈیزائنرز بہتر تنخواہ والی انگریزی یا ہندی تنظیموں کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔  

2۔قارئین اور تعلیم میں کمی:

 زبان کی پس ماندگی کے سبب اردو مشترکہ زبان کے طور پر اپنی تاریخی حیثیت کے بجائے مسلمانوں کے ایک مخصوص طبقہ یعنی اردو کمیونٹی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اس پر ستم یہ کہ اردو میڈیم اسکولوں کی شدید کمی نے نوجوان نسل کو اکثر اردو اسکرپٹ پڑھنے سے قاصر رکھا ہے جس کی وجہ سے قارئین کی تعداد کم سے کم تر ہوتی جارہی ہے۔

3۔ پیشہ ورانہ اور تکنیکی خامیاں:

عصری منظر نامے میں اردو کے صحافیوں میں خصوصی تربیت کا فقدان بھی ہماری صحافت کا ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ حالانکہ صحافتی تربیت کے چند مخصوص ادارے تو ہیں لیکن اردو صحافت کی معدوم ہوتی روشنی سے اردو داں طبقہ تربیت حاصل کرنے سے گریزاں نظر آتا ہے جس کی وجہ سے غیر تربیت یافتہ عملے پر ہی اردو میڈیا کا انحصار ہوتا ہے جس سے اکثر و بیشتر لسانی خامیاں سامنے آتی ہیں۔

ڈیزائن اور ٹیکنالوجی میں غیر معمولی ترقی کے باوجود اردو کے بہت سے اخبارات اب بھی پرانے سافٹ ویئر استعمال کرتے ہیں جیسے InPage اور پیشہ ور لے آؤٹ ڈیزائنرز کی کمی کے نتیجے میں ناپسندیدہ فونٹ اور فرسودہ ڈیزائن استعمال کئے جانے سے آنکھوں کو کھٹکتا بھی ہے۔  مالی رکاوٹیں اکثر اردو میڈیا کو اصل فیلڈ رپورٹنگ یا تحقیقاتی صحافت سے روکتی ہیں اور وہ نیوز ایجنسیوں اور انگریزی/ ہندی ذرائع کے ترجمے پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ 

4۔ شناخت کا مسئلہ:

اردو کو مسلمانوں کی زبان کے بیانیہ سے صحافتی میدان میں ایک تاثر یہ بھی قائم ہوگیا ہے کہ اردو میڈیا دراصل’اسلامی میڈیا‘ ہے، جو سیاسی یا سائنسی گفتگو کے بجائے زیادہ تر مذہب و مذہبی تہواروں اور کمیونٹی کے جذباتی مسائل پر ہی توجہ مرکوز کرتا ہے اور سنسنی خیز و استحصالی طریق صحافت کو فروغ دیتا ہے جس سے بےاعتباری روز افزوں ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے ناقدین یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ اردو پریس موجودہ سیاسی ماحول میں اقتدار کے سامنے سچ بولنے سے’خوف زدہ‘ ہوگیا ہے۔ 

بہرکیف، متذکرہ مسائل کے علاوہ اردو صحافت کے معیار میں اخلاقیات تو دور کی بات،   اندازِ پیشکش اور زبان و بیان کے معیار بھی حد درجہ تنزل آمادہ ہیں۔

ہمعصر صحافت کا تجارتی مزاج اور کارپوریٹ مفادات سب سے اہم مسئلہ بن چکے ہیں۔ شاید اسی لئے عصری صحافت ایک مشن کے بجائے منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔ میڈیا گھرانوں کی پالیسی اکثر و بیشتر مالکان کے تجارتی مفادات اور سرکاری اشتہارات کے تابع ہوتی ہے جس سے آزادانہ اور منصفانہ رپورٹنگ بڑی حد تک متاثر ہوجاتی ہے۔ ویسے بھی صحافت ہر زمانے میں حکومت کی غلط پالیسیوں پر تلخ و ترش تبصرے کرکے آئینہ دکھانے کا فریضہ انجام دیتی رہی ہے۔

زرد صحافت (Yellow Journalism) سنسنی خیزی اور کلک بیٹ (Clickbait) کے چکر میں خبر کے اصل حقائق کو مسخ کر دیا جاتا ہے تاکہ قارئین کی توجہ حاصل کی جا سکے۔

زبان اور مواد کا معیار: اردو صحافت میں خاص طور پر املا، گرامر اور ادبی معیار میں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ انگریزی کے بڑھتے ہوئے اثر اور تربیت یافتہ صحافیوں کی کمی نے مواد کو کمزور کر دیا ہے۔

سیاسی جانبداری: میڈیا کا ایک بڑا حصہ سیاسی گروہوں کا آلۂ کار بن چکا ہے، جس کی وجہ سے’غیر جانبداری‘ کا عنصر ختم ہو رہا ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا کے چیلنجز: سوشل میڈیا کی وجہ سے فیک نیوز (Fake News) کا پھیلاؤ اور بغیر تصدیق کے خبروں کی اشاعت ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ 

صحافتی معیار: (Journalistic Standards):ایک معیاری صحافت کے لیے درج ذیل اصول کی پاسداری لازمی قرار دی جاتی ہے:

سچائی اور درستی:  خبر کی اشاعت سے پہلے اس کی مکمل تصدیق اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ لازمی ہے۔

غیر جانبداری اور معروضیت (Objectivity):  صحافی کو ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر ہر پہلو کو شفافیت سے پیش کرنا چاہیے۔

عوامی مفاد:  صحافت کا بنیادی مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا ہونا چاہیے۔

اخلاقی حدود:  خون خرابہ، تشدد یا ذاتی زندگی کی رازداری (Privacy) سے متعلق تصاویر اور خبروں میں اخلاقی اقدار کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

احتساب:  میڈیا کو معاشرے کے لیے’واچ ڈاگ‘ (Watchdog) کا کردار ادا کرنا چاہیے اور اپنی غلطیوں پر خود احتسابی کا عمل بھی جاری رکھنا چاہیے۔ 

مجموعی طور پر ہمعصر صحافت کو اگرچہ جدید ٹیکنالوجی سے مواقع ملے ہیں، لیکن اسے اپنی ساکھ بچانے کے لیے پیشہ ورانہ اخلاقیات اور معیار پر سمجھوتہ کرنے سے بچنا ہوگا۔

(اعزازی مدیر)